ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / باجوڑ میں بم حملہ، پانچ نیم فوجی اہلکار اور تحصیلدار ہلاک

باجوڑ میں بم حملہ، پانچ نیم فوجی اہلکار اور تحصیلدار ہلاک

Sun, 17 Sep 2017 22:32:37    S.O. News Service

کراچی، 17؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پاکستانی قبائلی علاقے باجوڑ میں ریموٹ کنٹرول کی مدد سے کیے گئے ایک بم حملے میں اتوار سترہ ستمبر کے روز ایک سینیئر حکومتی عہدیدار اور پانچ نیم فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ یہ بم ایک سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا۔پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے اتوار سترہ ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق مقامی حکام نے بتایا کہ شمال مغربی پاکستان میں افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب قبائلی علاقے میں یہ بم حملہ آج کیا گیا۔ باجوڑ ایجنسی کی مقامی انتظامیہ کے ایک رکن عزیز الوہاب نے بتایا کہ پاکستان کے اس علاقے کی سرحدیں ہمسایہ ملک افغانستان کے صوبے کْنڑ سے ملتی ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں پولیٹیکل تحصیلدار کے علاوہ پانچ پیراملٹری فوجی بھی شامل ہیں۔عزیز الوہاب کے مطابق ہلاک شدگان باجوڑ کے صدر مقام سے قریب 30 کلومیٹر کے فاصلے پر سفر میں تھے کہ ان کا سرکاری ٹرک سڑک پر نصب کیے گئے ایک ایسے بم کی زد میں آ گیا، جس کا دھماکا ریموٹ کنٹرول کی مدد سے کیا گیا۔دیگر اطلاعات کے مطابق یہ بم حملہ باجوڑ کی تحصیل لوئی ماموند کے علاقے تنگی گڑیگال میں کیا گیا۔ پولیٹیکل تحصیلدار فواد علی تحصیل ماموند کے اعلیٰ ترین سرکاری اہلکار تھے جب کہ ان کے ساتھ اس دھماکے میں مارے جانے والے پانچوں پیراملٹری اہلکاروں کا تعلق لیویز سے تھا۔باجوڑ شمالی اور شمال مغربی پاکستان کے ان سات نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں سے ایک ہے، جو براہ راست وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہونے کی وجہ سے انگریزی میں مختصرا? ’فاٹا‘ کہلاتے ہیں۔ انہی ’وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں‘ میں پاکستانی فوج افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب کئی مقامات پر طویل عرصے سے یا تو ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف مسلح آپریشن کر چکی ہے یا ابھی تک کر رہی ہے۔ایک طویل سلسلے کے طور پر ان دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کے خلاف اپنی مسلح کارروائیوں کا آغاز 2014ء4 کے وسط میں کیا تھا۔ اب تک ان کارروائیوں میں سینکڑوں عسکریت پسند اور پاکستانی فوجی مارے جا چکے ہیں لیکن شدت پسندوں کی طرف سے مختلف علاقوں میں کیے جانے والے مسلح حملوں میں شہری آبادی اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا۔


Share: